بنگلورو،2؍جولائی(ایس او نیوز) نما میٹرو شہر کے لاکھوں شہریوں کے لئے ایک انعام ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کی اپنی کچھ خرابیاں بھی ہیں،خاص طور پر میٹرو کے اسٹیشنوں اور اس کی ٹریک پر حفاظتی نقطہ نظر سے کچھ مسائل حالیہ دنوں میں سامنے آئے ہیں -میٹرو ٹریک پر نوجوانوں کی طرف سے خود کشی کی کوشش کے علاقہ میٹرو کی ٹریک سے سے تانبے کی تاروں اور کنڈکٹروں کی چوری جیسے واقعات نے اس ضرورت کو مزیدواضح کر دیا ہے کہ میٹرو کے اسٹیشنوں اور اس کی پٹڑیوں پر خصوصیت کے ساتھ حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا جائے-ایک خانگی کمپنی میں ملازم 29سالہ محمد یونس کا کہنا ہے کہ ”میٹرو کے ٹریکس کے قریب زیادہ تعداد میں حفاظتی دستہ کے اراکین کی تعیناتی ہونی چاہئے-عام طور پر اور اکثر اسٹیشنوں میں ٹریک کے اختتام کے قریب حفاظتی دستہ کے دو ہی اراکین کو کھڑا کیا جاتا ہے، خاص مصروفیت کے اوقات میں یہ ناکافی ہوتا ہے، زیادہ تر میٹرو کے مسافر،ریل گاڑی سے اترے ہوئے ضابطوں کا اہتمام نہیں کرتے جس کی وجہ سے افرا تفری پیدا ہو جاتی ہے، اگر میٹرو ریل کے دروازوں کے قریب بیریکیڈ لگادئے جائیں تو کسی حد تک اس طرح کی افراتفری کو روکا جا سکتا ہے“-البتہ نما میٹرو حفاظتی دستہ کے اکثر اراکین یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسائل خود مسافروں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں -ساؤتھ اینڈ سرکل میٹرو اسٹیشن کے ایک گارڈ نے بتایا کہ اکثر مسافر، ان کی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے، انہوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ اپنے فون کو دیکھتے ہوئے یا اس پر کسی کو مسیج کرتے ہوئے سر کو چھکا کر چلے جاتے ہیں، اگر ان لوگوں کو کچھ ہو جاتا ہے تو سارا الزام ہمارے سر دھر دیا جاتا ہے کہ ہم نے انہیں تنبیہ نہیں کی تھی، ریل گاڑی کا انتظار کر تے ہوئے مسافروں کو بھی کسی حد تک ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے“-